وہ دو ہاتھ ہمارے ہوں گے

وہ دو ہاتھ ہمارے ہوں گے

جس موسم میں عرش سے ساجن!
رحمتیں دھرتی پر اُتریں گی
جس دم رب کے در پر کوئی
دھیرے دھیرے دستک دے گا
جس دم تیرے چاہنے والے
گھر کے لوگ یا اور سہارے
اپنے اپنے ہاتھ اُٹھا کے
تیری بھلائی مانگتے ہوں گے
اُس دم اُن سب ہاتھوں میں
دو ہاتھوں کو بھول نہ جانا
تیری بھلائی مانگنے والے
وہ دو ہاتھ ہمارے ہوں گے

شازیہ اکبر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی