وہ دن گزر گئے ، وہ کیفیت گزرتی نہیں

وہ دن گزر گئے ، وہ کیفیت گزرتی نہیں

عجیب دھوپ ہے دیوار سے اترتی نہیں

ہرے درخت سے لپٹی ہوئی یہ کاسنی بیل

اداس ہوتی ہے لیکن اداس کرتی نہیں

ہوائے درد محبت کی تمکنت بھی تو دیکھ

کہ مشتِ خاک ہے لیکن کبھی بکھرتی نہیں

تُو اس عذاب سے واقف نہیں کہ عشق کی آگ

تمام عمر جلا کر بھی راکھ کرتی نہیں

کوئی دلاسا ملا ہے تو رو دیا ہوں سعود

یہ لمسِ حرف نہ ہوتا تو آنکھ بھرتی نہیں

سعود عثمانی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے