ویسے تو زندگی میں

ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایا

جب دفن ہو گیا تو شاعر کے بھاگ جاگے

وہ سادگی میں ان کو دو سامعین سمجھا

بس آٹھویں غزل پر منکر نکیر بھاگے

اطہر شاہ خان جیدی

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا