وابستگاں کی کوئی نشانی نہیں ملے

وابستگاں کی کوئی نشانی نہیں ملے
دریا کو اس قدر بھی روانی نہیں ملے

آسودگی ملے تو جوانی کے سنگ ہو
عمرِ رواں کی رنج فشانی نہیں ملے

اِس سمت ان کے واسطے کوثر کے ہے دعا
اُس سمت کوششیں ہیں کہ پانی نہیں ملے

تُو دے رہا ہے مجھ کو یہ اوراد تو مگر
لیکن زباں کو عجز بیانی نہیں ملے

فرسودہ حال کاش کتابوں کو ڈھونڈھتے
"گم گشتہ” رابطوں کی کہانی نہیں ملے

انسانیت معانی ہیں انسان لفظ ہے
الفاظ تو ملے ہیں معانی نہیں ملے

عامر ابدال

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا