وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا

وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
پلک جھپکتے ، ہَوا میں لکیر ایسا تھا

اسے تو دوست ہاتھوں کی سُوجھ بوجھ بھی تھے
خطا نہ ہوتا کسی طور ، تیر ایسا تھا

پیام دینے کا موسم نہ ہم نوا پاکر
پلٹ گیا دبے پاؤں ، سفیر ایسا تھا

کسی بھی شاخ کے پیچھے پناہ لیتی میں
مجھے وہ توڑ ہی لیتا، شریر ایسا تھا

ہنسی کے رنگ بہت مہربان تھے لیکن
اُداسیوں سے ہی نبھتی ، خمیر ایسا تھا

ترا کمال کہ پاؤں میں بیڑیاں ڈالیں
غزالِ شوق کہاں کا اسیر ایسا تھا!

پروین شاکر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا