وہ تجھ کو دے گا کھانا، سب کمائی تو نہیں دے گا
اب اپنا سوچ لے، ہر چیز بھائی تو نہیں دے گا
وہی اک سب کا مالک ہے، سبھی کا پالنے والا
اسی سے مانگتے ہیں، واج پائیؔ تو نہیں دے گا
ہؤا ہے روگ لاحق تو دوا بھی خود تلاشیں گے
دیا ہے درد جس نے اب دوائی تو نہیں دے گا
ستم جو بھی کرے بندہ ترے رحم و کرم پر ہے
کسی حاکم کو جا کر یہ دہائی تو نہیں دے گا
رئیسِ شہر شاطر سے تو آنکھیں بند رکھتا ہے
اب اپنے حق میں مہرہ کچھ صفائی تو نہیں دے گا
قفس تیرا مجھے آزاد رکھنے سے کہیں بہتر
مگر اتنا بتا مجھ کو رہائی تو نہیں دے گا
ترے کہنے پہ اب سردار کو حصہ نہ دوں گا میں
کہیں تو فصل سے اپنی، بٹائی تو نہیں دے گا؟
وہ چیزیں چھینتا ہے اور لوٹاتا ہے خود آ کر
کسی سے بھی شکایت جا لگائی تو نہیں دے گا
خدا سے چھپ کے میں مخلوق کو بکتا ہوں کیا کیا کچھ
کہیں وہ سب الہٰی کو سنائی تو نہیں دے گا
بڑا خوش بخت ہوں، لوگوں کی نفرت سے کماتا ہوں
میں بد صورت بھلا، وہ خوش نمائی تو نہیں دے گا؟
وہ سب کو رزق دیتا ہے، کبھی ایسا نہیں ہوتا
کسی نے مورتی حسرتؔ بنائی تو نہیں دے گا
رشید حسرتؔ
مورخہ ۳۱ دسمبر ۲۰۲۴، شب ۱۰ بج کر ۳۵ منٹ پر یہ غزل مکمل ہوئی