وہ کبھی ایسے ملے

وہ کبھی ایسے ملے، خواب مرے چھو دیکھے
میری آنکھوں کو سنےاور مری خوشبو دیکھے

کوئی لفظوں میں وہ تاثیر کہاں سے لاتا
بولنے والوں نے خاموشی کے جادو دیکھے

روشنی تاروں سے پھوٹے یہ ضروری تو نہیں
کوئی جنگل کی سیہ رات میں جگنو دیکھے

باپ کا چہرہ نہ دیکھا گیا وقت رخصت
ماں کی آنکھوں میں لرزتے ہوئے آنسو دیکھے

ہم نے خوشیوں میں اداسی کو قریں پایا ہے
اپنے اطراف میں تنہائی کے بازو دیکھے

اب مقید ہیں نہاں خانے میں تارہ آنکھیں
کون اب آنکھ اٹھا کے کوئی مہ رو دیکھے

آنکھ نے اسکو ہر اک شے میں تلاشا ہوا ہے
وہ بظاہر نہیں دکھتا جسے ہر سو دیکھے

شہلا خان

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا