وہ ہجرتیں تھیں کہ دھکے دیئے گئے

وہ ہجرتیں تھیں کہ دھکے دیئے گئے تھے ہمیں
چراغ جلتے ہوۓ چھوڑنے پڑے تھے ہمیں

ہمیں سمجھتا ہے کوئی، کوئی تو ہے اپنا
اور ایسے اور بھی کتنے ہی واہمے تھے ہمیں

یہ تُو نے کیسے سفر کی طرف دھکیل دیا
جو جانتے بھی نہیں تھے وہ رو رہے تھے ہمیں

تمہارا ہاتھ جھٹکنا تو خیر بنتا ہے
بہت سے لوگ نمازوں میں مانگتے تھے ہمیں

بس ایک بار ارادہ کیا چلے جائیں
بہت سے درد گریباں سے کھینچتے تھے ہمیں

کسی کا صرف یہ کہنا کہ یار میں ہوں ناں
اس ایک بات سے کتنے ہی حوصلے تھے ہمیں

یہ خودکشی کوئی عجلت کا فیصلہ نہیں تھا
بس اپنے آپ سے میثم بہت گلے تھے ہمیں

میثم علی آغا

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر