اٹھتی ہے مرے قلب سے اک آہ شرر بار

اٹھتی ہے مرے قلب سے اک آہ شرر بار
اب تک ہے مری روح میں اُس عہد کی تکرار

جو روزِ اَلَست آہ مری آہ میں تھا جوش
نَس نَس ہے اُسی لطفِ "بَلی’ سے مری سرشار

مغلوب مجھے کر نہ سکا عالَمِ اَجرام
انکار مجھے کل بھی تھا ہے آج بھی انکار

یہ راز ہوا فاش مرے جوشِ جنوں پر
دیدار یہاں جس کو وہاں بھی اُسے دیدار

ہوتا ہے نصیب اُس کو ہی احرامِ لطافت
جس روح کی تقدیر میں ہو عشق کا آزار

پہلا ہوں مسافر میں رہِ جذب و جنوں میں
جو دیدِ شَبی طُور میں دلگیر و گرفتار

سینے میں دہکتی ہے مرے آتشِ نَمناک
کُھلتا ہے مری آنکھ میں جب بارواں اَدوار

میں بھی ہوں اُسی مردِ قلندر کا مقلد
کل تُو نے جسے دیکھا تھا مصلوب سرِ دار

ہم جیسے جنوں خیز پرندوں کی بدولت
قائم ہے زمانے میں تری غیرتِ گلزار

ہے جادہِ سوزاں میں یہ نقارہِ درویش
وہ قلبِ مَکَرم ہے جو ہے قلب لہو بار

اک شورِشِ محشر ہے مرا خرقۂ صد چاک
تسلیم پہ تحقیق نہیں شیوہِ ہشیار

اَسرار ترے کُھل نہ سکے اہلِ جہاں پر
جامؔی تُو شہِ فقر کا ہے خادمِ دستار

شاہ محمود جامؔی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی