اسے فن نہیں پردۂ فن کہو

اسے فن نہیں پردۂ فن کہو
غزل کو چراغوں کی چلمن کہو

انہیں میں سنورتے رہو عمر بھر
سدا میری آنکھوں کو درپن کہو

وہ جب چاہے سر سبز کر دے مجھے
مرے واسطے اس کو ساون کہو

قدم چاند سے میرے دل پر رکھو
اسے بھی کبھی گھر کا آنگن کہو

جواں ہو کے مل جائیں گے خاک میں
گلوں کو شہیدوں کا بچپن کہو

کئی باغ ہیں اس زمیں کے تلے
مرے دل کو یادوں کا مدفن کہو

ستاروں کے دھبے کھلا آسماں
اسے بھی شرابی کا دامن کہو

بشیر بدر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان