اُس نگر گئے تم بھی

اُس نگر گئے تم بھی
یار مر گئے تم بھی

ہجر کے تماشے میں
بھول کر گئے تم بھی

چارسُو اداسی ہے
اور گھر گئے تم بھی

بے ثمر زمانے سے
بے ثمر گئے تم بھی

فاصلے ڈراتے ہیں
اور ڈر گئے تم بھی

اِک طلسمِ شب جاگا
اِک گزر گئے تم بھی

بخت کی سواری سے
لو اُتر گئے تم بھی

 

ناصر ملک

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا