اُس نے جب مجھ کو پلٹ کر دیکھا

اُس نے جب مجھ کو پلٹ کر دیکھا
راستوں نے بھی سمٹ کر دیکھا

راکھ ہی راکھ نظر آتی ہے
جب بھی ماضی کو الٹ کر دیکھا

وہ مرے تن کی قبا بن نہ سکی
دشت کی دھول میں اَٹ کر دیکھا

مختلف وہ نظر آیا مجھ کو
بھیڑ سے جب اُسے ہٹ کر دیکھا

شاذؔ سب خواب مرے جلنے لگے
رات تاروں سے لپٹ کر دیکھا

شجاع شاذ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی