اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا

اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
مجھ کو انسان سے اوتار کیا

دشت غربت میں دل ویراں نے
یاد جمنا کو کئی بار کیا

پیار کی بات نہ پوچھو یارو
ہم نے کس کس سے نہیں پیار کیا

کتنی خوابیدہ تمناؤں کو
اس کی آواز نے بیدار کیا

ہم پجاری ہیں بتوں کے جالبؔ
ہم نے کعبے میں بھی اقرار کیا

حبیب جالب

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا