اس نے اک وعدہ کیا اور میں جھٹ مان گیا

اس نے اک وعدہ کیا اور میں جھٹ مان گیا
شاخ سوکھی تو مرا جڑ کی طرف دھیان گیا

باغ اجڑا تو گلہری کی حکومت آئی
ایک اک پیڑ تلک پھول کا تاوان گیا

کوئی سمٹا ہوا بیٹھا تھا بھری کھڑکی میں
اور میں پوشاک سے خوشبو کو بھی پہچان گیا

ایک بوسے کے دباؤ میں ہوا چلتی تھی
جاتے جاتے مرے سینے سے وہ خلجان گیا

آتے آتےمجھے آیا تھا کسی کا ہونا
اور اک شخص بھروسے پہ ہنسی تان گیا

علی زیرک

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں