اُس نے اپنا سخن تمام کیا

اُس نے اپنا سخن تمام کیا
دل نے جب آگ سے کلام کیا

زندگی نے پکارا نام مرا
روشنی نے مجھے سلام کیا

سرمئی خاک پر نماز پڑھی
احمریں رنگ کو امام کیا

دن نکالا چراغ کی تہہ سے
اور جادُو سے دن کو شام کیا

اُس کے دل میں نہیں تھا دل آباد
میں نے جس پل وہاں قیام کیا

اُس کی چشمِ غزال نے کامیؔ
دامنِ دشت میرے نام کیا

سید کامی شاہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا