اُس کے حصارِ خواب کو مت کربِ ذات کر

اُس کے حصارِ خواب کو مت کربِ ذات کر
اُس خوشبوئے خیال کو تُو کائنات کر
دل کب تلک جدائی کی شامیں منائے گا؟
میری طرف کبھی تو نسیمِ حیات کر!
میں اک طویل راستے پر ہوں کھڑی ہوئی
یا حبسِ تیرگی لے یا ہاتھوں میں ہات کر
پہلے تو کھول بند قبا زندگی کے تُو
پھر اوس میں بھگو کے اُسے پات پات کر
دھیمے سُروں میں چھیڑ کے پھر سازِ زندگی
تُو میرے لہجے میں بھی کبھی مجھ سے بات کر
وہ ہجرتیں ہوں، ہجر ہو یا قصّۂ وصال
آ پھر سے میرے نام سبھی واقعات کر
پیروں سے اُس کے نام کے رستے لپٹ گئے
اب تو یقیں کے شہر میں ناہید رات کر

ناہید ورک

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے