اس کی حسرت ہے جسے

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں

ڈال کر خاک مرے خوں پہ قاتل نے کہا
کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ مٹا بھی نہ سکوں

ضبط کمبخت نے اور آکے گلا گھونٹا ہے
کہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں

اس کے پہلو میں جو لے جا کے سلادوں دل کو
نیند ایسی اسے آئے کہ جگا بھی نہ سکوں

نقشِ پا دیکھ تو لوں لاکھ کروں گا سجدے
سر مرا عرش نہیں ہے کہ جھکا بھی نہ سکوں

اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانوں پر
اپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں

امیر مینائی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی