بیٹھے بٹھائے سر پہ یہ افتاد آ گئی
لو۔۔! ایک اور سانس ترے بعد آ گئی
میں جی رہا تھا اپنی مدد آپ کے تحت
صد شکر تیرے ہجر کی امداد آ گئی
تحریک پیش کر دوں عدم اعتماد کی
جو چاہیئے تھی اشکوں کی تعداد ، آ گئی
اس روز تیری آنکھ بھی ، کاجل بھی ختم شد
جس روز تجھ کو میری غزل یاد آ گئی
ممکن تھا بال و پر سے قفس کو ادھیڑتے
پر کیا کریں کہ غیرت صیاد آ گئی
مصرعے بنائے جاتا ہوں اشکوں کو روک کر
کیسی صلاحیت یہ خداداد آ گئی
اظہر عباس خان