اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے

اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے
کسی کے ہجر کی رنگت دکھائی دیتی ہے

اُسے صدا نہیں دیتا کہ لطفِ حاصل سے
جمالِ یار میں خفت دکھائی دیتی ہے

وہ اپنے عیب بھی آئینے پر ہی دھر آیا
کمال اس شخص میں جرأت دکھائی دیتی ہے

بنا تو لوں اسے دل کا مکیں، مگر مجھ کو
پسِ وصال بھی ہجرت دکھائی دیتی ہے.

وہ مجھ سے ملنے مرے گھر پہ آگیا تھا کل
سو میرے زخم میں جدت دکھائی دیتی ہے

یہ میرے سوزِ دروں کی ہی عطا ہے سالک
سخنوری میں جو برکت دکھائی دیتی ہے

محمد عمیر سالک

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف