ہے یہ بازار جھوٹ کا بازار

ہے یہ بازار جھوٹ کا بازار

پھر یہی جنس کیوں نہ تولیں ہم

کرکے اک دوسرے سے عہد وفا

آؤ کچھ دیر جھوٹ بولیں ہم

۔۔۔۔۔۔۔

یہ تیرے خط تیری خوشبو یہ تیرے خواب و خیال

متاع جاں ہیں ترے قول و قسم کی طرح

گزشتہ سال انہیں میں نے گن کے رکھا تھا

کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح

جون ایلیا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی