تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی نہیں تھا

تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی نہیں تھا
ہمارا کن سے پہلے رازداں کوئی نہیں تھا

بڑی خوش فہمیاں تھیں ساتھ ہیں احباب لیکن
جو پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا

ٹھکانہ مل گیا ہم کو تمہارے دل میں آخر
کہ اس سے قبل تو اپنا مکاں کوئی نہیں تھا

مجھے آوارگی نے جا کے چھوڑا اُس جگہ پر
مسلسل برف باری تھی دھواں کوئی نہیں تھا

خلاف اپنے وہاں میں بدگماں خود ہی کھڑا تھا
مرے بارے وہاں پر بدگماں کوئی نہیں تھا

تھکن کی دھوپ سے بچ کر نکلتا میں بھی طارق
محبت کا مرے سر سائباں کوئی نہیں تھا

طارق جاوید

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے