تمہاری نگاہیں جو پہچانتے ہیں

تمہاری نگاہیں جو پہچانتے ہیں
زمانے کی باتیں وہ کب مانتے ہیں

فریب تلاطم نہ دیں ناخدا اب
سفینے کناروں کو پہچانتے ہیں

زمانے کی چالیں زمانہ ہی سمجھے
نہ تم جانتے ہو نہ ہم جانتے ہیں

تعارف کی کوئی ضرورت نہیں ہے
دوانے دوانوں کو پہچانتے ہیں

کرو ضبط غم کی نہ تلقین باقیؔ
جو ہم پر گزرتی ہے ہم جانتے ہیں

باقی صدیقی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا