تمھارے لیے ایک نظم

مرے شہر زاد
یہ روز و شب
یہ خیال و خواب
یہ چشم و لب
ترے جسم و جاں کے سبک سراب کی نذر ہیں
مری انگلیوں کی ہر ایک پور میں
تیرے نام کی جتنی آنچ سلگ رہی ہے، دمک رہے ہیں
ترے لیے جو چراغ، وہ سبھی تیرے حسنِ صبا خرام کی نذر ہیں
مرے شہر زاد
یہ شاعری،یہ تخیلات،یہ آرزوئے وصال
ہجر و فراق ،سب ترے صبح و شام کی نذر ہیں
مرا آئینہ،میرے آئینے کے تمام عکس
ترے ستارۂ آب و تاب کی نذر ہیں
مرے رت جگوں کے سبھی حساب
تری کتابِ بدن کے بھیدوں بھرے نصاب کی نذر ہیں
مرے ہر مسامِ خیال میں
جو بسی ہوئی ہیں یہ خوشبوئیں
ترے اس جمالِ سخن مثال کی نذر ہیں
مرے شہر زاد
یہ روز و شب
یہ خیال و خواب
یہ چشم و لب
ترے خد و خال کی نذر ہیں

ایوب خاور 

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان