تمہارا غم نہیں کافی ، ہمارا دل جلانے کو

تمہارا غم نہیں کافی ، ہمارا دل جلانے کو
نئے کچھ روگ پالیں گے پرانے دُکھ بھلانے کو
یہ دن اپنا گذرتا ہے اُٹھائے بوجھ فرقت کا
چلی آئی ہیں پھر یادیں ہمیں شب بھر جگانے کو
تمہارے نقش گر ہاتھوں میں سارے رنگ کچے ہیں
کہو تو ہم چلے آئیں لہو اپنا ملانے کو
ہوئے ہیں داخلِ زندان مگر تم سے نہیں غافل
صبا کو ہم نے بھیجا ہے تمہارا حال لانے کو
تماشا ہو اگر تقدیر کا ، تب دِل بہلتا ہے
اُتر آتے ہیں تارے بھی مری راہیں سجانے کو

شازیہ اکبر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی