تم یہ کورا رہنے دو!

تم یہ کورا رہنے دو!

ماضی، حال، مستقبل، کچھ تو کورا رہنے دو
پُل کے نیچے بہنے دو آنسوؤں کی یہ ندیاں
وقت چلتا جائے گا، بیت جائیں گی صدیاں
بے حسوں کی بستی میں، بے حسی کو رہنے دو
دل تو پورا پاگل ہے اس کو پورا رہنے دو
یہ جو کہتا رہتا ہے ، اس کو بھی وہ کہنے دو
اس کو کورا رہنے دو
تم یہ کورا رہنے دو۔۔۔!!!

فرزانہ نیناں

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان