تم سراپا بہار ہو جاناں

تم سراپا بہار ہو جاناں
کس لیے سوگوار ہو جاناں

بوجھ دل پر ہے آج بھی جیسے
درد کوئی سوار ہو جاناں

ایک لمحہ پلٹ کے دیکھو نا
گر میرا اعتبار ہو جاناں

یاد کرنا مجھے اکیلے میں
دل اگر بے قرار ہو جاناں

تازگی لب سے چوس لوں ساری
یوں میرا اختیار ہو جاناں

سانس لینا محال ہوتا ہے
جب ترا انتظار ہو جاناں

میری مجبوریوں کو سمجھو نا
بے سبب اشکبار ہو جاناں

ناصر ملک

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی