تم سے کہنا تھا

اِک نظر کی فرصت میں
سطحِ دل پہ کھل اُٹھے
لفظ بھی، معانی بھی
خامشی کی جھلمل میں
آگ بھی تھی، پانی بھی
دِل نے دھڑکنوں سے بھی
جو کہی نہیں اب تک
اَن کہی کہانی بھی
ان کہی کہانی میں
آنکھ بھر تمنّا تھی
ہاتھ بھر کی دُوری پر
لمس بھر کی قربت تھی
لمحہ بھر کا سپنا تھا

ایوب خاور 

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان