تم نہ مانو مگر حقیقت ہے

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے

عشق انسان کی ضرورت ہے

جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ

زندگی کو مری ضرورت ہے

حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے

صرف احساس کی ضرورت ہے

اس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا

اب در و بام سے ندامت ہے

اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو

زندگی کتنی خوبصورت ہے

راستہ کٹ ہی جائے گا قابلؔ

شوق منزل اگر سلامت ہے

قابل اجمیری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی