تم جاننا چاھو کہ میرے اندر ہے کون

تم جاننا چاھو کہ میرے اندر ہے کون
اس بات کے آغاز پہ تم غور ذرا کر لو

میرے ساتھ جو چلنا ھو تو دور تلک چلنا
ورنہ پلٹو اور محبت کا استخارہ کر لو

کیسے ٹوٹتے ھیں لوگ چلو دکھلاوں میں
سڑکوں پہ پڑے لوگوں کا نظارہ کر لو

اب تم بھی منافقت سے باز آجاو
میرا مشورہ یہی ھے گزارہ کر لو

دوسری محبت میں مات ہو بھی سکتی ہے
یوں کرو میرے ہی ساتھ پہ گزارا کر لو

حسرتوں کی دلدل میں دھنس نہیں سکتی
آرزو تم کو ہے تمہیں فیصلہ دوبارہ کر لو

منزلیں اور بھی ہے تحمینہ کی بتائیے دیتی ہوں
پھر نہ کہنا کہ تم مجھ سے کنارہ کر لو

تہمینہ مرزا

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

1 تبصرہ

زین چیمہ مارچ 18, 2020 - 10:37 صبح
بہت خوب کہا ہے اب تم بھی منافقت سے باز آجاو میرا مشورہ یہی ھے گزارہ کر لو
Add Comment