تجھ سے گر واسطہ نہیں ہوتا

تجھ سے گر واسطہ نہیں ہوتا
عشق میں مبتلا نہیں ہوتا

میرے دل میں جو ہے میں کہہ دیتا
کیا کروں حوصلہ نہیں ہوتا

عشق بس ایک بار ہوتا ہے
دوسرا تیسرا نہیں ہوتا

بے وفائی وہی تو کرتے ہیں
یاد جن کو خدا نہیں ہوتا

مشورے روز مجھ سے ہوتے تھے
اور اب فائدہ نہیں ہوتا

میں نے سو بار پی کے دیکھا ہے
زہر کا ذائقہ نہیں ہوتا

سر پھرے دوستوں کی محفل میں
تھینک یو، شکریہ نہیں ہوتا

شاعری چھوڑنے کی چیز نہیں
ورنہ ظافِرؔ سے کیا نہیں ہوتا

محمد اویس ظافِر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا