تجھ بن اے نوبہار کے مانند

تجھ بن اے نوبہار کے مانند
چاک ہے دل انار کے مانند

پہنچی شاید جگر تک آتش عشق
اشک ہیں سب شرار کے مانند

کو دماغ اس کی رہ سے اٹھنے کا
بیٹھے اب ہم غبار کے مانند

کوئی نکلے کلی تو لالے کی
اس دل داغدار کے مانند

سرو کو دیکھ غش کیا ہم نے
تھا چمن میں وہ یار کے مانند

ہار کر شب گلے پڑے اس کے
ہم بھی پھولوں کے ہار کے مانند

برق تڑپی بہت ولے نہ ہوئی
اس دل بے قرار کے مانند

ان نے کھینچی تھی صیدگہ میں تیغ
برق ابر بہار کے مانند

اس کے گھوڑے کے آگے سے نہ ٹلے
ہم بھی دبلے شکار کے مانند

زخم کھا بیٹھیو جگر پر مت
تو بھی مجھ دل فگار کے مانند

اس کی سرتیز ہر پلک ہے میر
خنجر آبدار کے مانند

میر تقی میر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی