تو جو اب میرے مقابل پہ کھڑا بولتا ہے

تو جو اب میرے مقابل پہ کھڑا بولتا ہے
یہ ذرا مجھ کو بتا کتنا مجھے جانتا ہے

ِاس سہولت سے تو میں سانس نہیں لیتا ہوں
جس سہولت سے مرا رزق مجھے ملتا ہے

جس سے ملتے ہو اسے اپنا سمجھ بیٹھتے ہو
اک ملاقات میں ہر شخص کہاں کھلتا ہے

اس لیے ختم نہیں ہوتا کبھی رنجِ حیات
سانس لیتا ہوں تو ہر زخم ہرا ہوتا ہے

اب مجھے ڈھلتی ہوئی عمر کا افسوس نہیں
آسرا میرے بڑھاپے کا مرا بیٹا ہے

طارق جاوید

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان