تو ہجرتوں کا زوال لکھ دے

تو ہجرتوں کا زوال لکھ دے
مرے بھی حصے وصال لکھ دے

گئی رتوں میں جو کھو گئے تھے

وہ سارے رشتے بحال لکھ دے

محبتوں پر لگاؤں۔ پہرا

مری کہاں ہے مجال لکھ دے

بتا کے جاناں کی باتیں قاصد

ذرا سا میرا بھی حال لکھ دے

دو چار دن کی محبتوں کو

اگر ہو ممکن تو جال لکھدے

کٹھن ہے سانسوں کی الٹی گنتی

ہے ہجر مجھ پر محال لکھدے

ادھوری ہجرت کے وسوسوں سے

میں ہو چکی اب نڈھال لکھ دے

مہک جو بن کر میں پھیل جاؤں

گلاب جیسی مثال لکھ دے

زمیں کی اتنی سی ہے تمنا

فلک سے رشتہ بحال لکھ دے

بچھڑ گیا جو سمیرا تجھ سے

اسے ہو اس پر ملال لکھ دے

 

سمیرا ساجد

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل