تو بد مزاج تھا تو نے بھی التجا نہیں کی

تو بد مزاج تھا تو نے بھی التجا نہیں کی
اور اب فقیر سے تکرار ہے دعا نہیں کی

میں خاندان کی پابندیوں سے واقف تھی
خدا کا شکر ہے اس شخص نے وفا نہیں کی

اذیتیں ہی سہی دل کی چوٹ بھی ہے عزیز
پرانا زخم رفو کر لیا دوا نہیں کی

ہزار بار اجاڑا ہے زندگی نے مجھے
برا ضرور منایا ہے بد دعا نہیں کی

وہ عشق و رزق میں فاقوں پہ آنے والے ہیں
خدا کے نام سے جس جس نے ابتدا نہیں کی

ترے غرور سے بڑھ کر مری انا ہے مجھے
تو پوچھتا ہے محبت کا مجھ سے جا نہیں کی

کومل جوئیہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے