تُو آسماں کو ورطہء حیرت میں ڈال دے

تُو آسماں کو ورطہء حیرت میں ڈال دے
ہاتھوں میں بھر کے نیلا سمندر اچھال دے

کلمہ پڑھا ہوا ہوں میں تیرے حبیب کا
سائل نہیں کہ تُو مجھے چوکھٹ سے ٹال دے

ممکن ہے میرا ساتھ کسی روز چھوڑ دے
لیکن نہیں کہ وہ مجھے دل سے نکال دے

شعروسخن ہی ایک حوالہ ہو ذات کا
شعروسخن میں تُو مجھے ایسا کمال دے

ایسی ضرب کہ سینہء سنگ سے شرر اٹھے
ایسی نظر کہ دھڑکنیں مشکل میں ڈال دے

بس ایک بار وصل سے سرشار کر مجھے
بس ایک بار ہجر کا کانٹا نکال دے

افتخار شاہد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی