ٹاور آف سائیلنس

ٹاور آف سائیلنس

اگلے جنم میں
خدا سے گزارش کروں گا
وہ آواز کو طوائف بنا کر بھپجے
میری خواہش ہے
میرے قبیلے کے لوگ
برہنہ چھاتیوں کی جستجو میں
احتجاج کے پھولوں پر ایمان لائیں
اور اپنی جیب سے
دہائی کے گلدستے خریدیں
میں کوشش کروں گا
خدا خاموشی کو
ہماری طلاق یافتہ بیویاں تسلیم کرے
جن کی کوکھ
ہماری پکار کے رنگوں کی حامل نہ ہو
اس جنم میں
ہمارے لوگ
آواز کا ٹاور آف سائیلنس نہ ہوں
جہاں خوف کے پرندے
زبانوں کی مردگی نوچتے ہیں

منیر جعفری

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا