ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے

شاخوں سے جب روٹھے پتے
ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے

پھل اور پھول کو رنگت دے کر
پیلے پڑ گئے بھوکے پتے

کڑواہٹ کا بھید نہ پائے
جو بھی چکھ کر تھوکے پتے

سانس میں اپنی جی اٹھتے ہیں
جب بھی دیکھوں چھو کے پتے

ہواؤں میں اڑتے کرب سنائیں
شاخ سےبچھڑے روکھے پتے

زرد اور خستہ کب جیتے ہیں؟
ہوں جس بھی رنگ و بو کے پتے

طارق اقبال حاوی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا