تھے کل جو اپنے گھر میں مہمان وہ کہاں ہیں

تھے کل جو اپنے گھر میں مہمان وہ کہاں ہیں
جو کھو گئے ہیں یارب اوسان وہ کہاں ہیں

آنکھوں میں روتے روتے نم بھی نہیں ہے اب تو
تھے موجزن جو پہلے طوفان وہ کہاں ہیں

کچھ اور ڈھب کے اب تو ہم لوگ دیکھتے ہیں
پہلے جو اے ظفرؔ تھے انسان وہ کہاں ہیں

(بہادر شاہ ظفر)

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی