تھے جو دو چار مر گئے ہیں کیا

تھے جو دو چار مر گئے ہیں کیا
وہ مرے یار مر گئے ہیں کیا

میرے مرنے پہ کیوں نہیں روتے
سب عزادار مر گئے ہیں کیا

اب کہاں ہیں وہ چارہ گر میرے
جا کے اس پار مر گئے ہیں کیا

وہ تسلی جو دینے آتے تھے
دل بیمار مر گئے ہیں کیا

ہر طرف پارسا ہی بیٹھے ہیں
سب گنہ گار مر گئے ہیں کیا

کیوں ہے ویرانی میکدے میں آج
سارے مے خوار مر گئے ہیں کیا

شہر خستہ یہ کیا ہوا تجھ کو
تیرے معمار مر گئے ہیں کیا

کیوں یہ کاسہ بدست ہیں حاکم
جو تھے خوددار مر گئے ہیں کیا

دھول جمنے لگی ہے خوابوں پر
سب خریدار مر گئے ہیں کیا

جو پرندے شجر کی رونق تھے
وہ ندی پار مر گئے ہیں کیا

شاہ دل شمس

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی