تھر

تھر

بھوک سے بلکتے ہیں آب کو ترستے ہیں

"کیا یہ ظلم تھوڑا ہے”

مائیں اپنے بچوں کے نرم گرم جسموں کو

سوکھتی زمینوں میں کسطرح دباتیں ہیں

لوگ ایک دوجے کو یوں خموش تکتے ہیں

جس طرح سمجھتے ہیں موت اب یقینی ہے

ہجرتوں کے مارے ہیں اپنے گھر کو چھوڑا ہے

"کیا یہ ظلم تھوڑا ہے "

کربلا سا عالم ہے سوگ پھیل جاتا ہے

اور یزیدی فطرت کے راہنما جو آتے ہیں

لوگ یہ سمجھتے ہیں ان عظیم لوگوں نے

ہاتھ جو بڑھایا ہے بھوک کو مٹایا ہے

تشنگی کو موڑا ہے

"کیا یہ ظلم تھوڑا ہے”

سلمیٰ سیّد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی