تیرے گُمنام اگر نام کمانے لگ جائیں

تیرے گُمنام اگر نام کمانے لگ جائیں
شرف و شیوہ و تسلیم ٹھکانے لگ جائیں

جس طرح نور سے پیدا ہے جہانِ اشیاء
اک نظر ڈال کے ہم بھی نظر آنے لگ جائیں

یہ بھی ممکن ہے کوئی روکنے والا ہی نہ ہو
یہ بھی ممکن ہے یہاں مجھ کو زمانے لگ جائیں

دیکھ اے حسنِ فراواں یہ بہت ممکن ہے
میرا دل تک نہ لگے تیرے خزانے لگ جائیں

جس کے ہونے سے ہے مشروط ہمارا ہونا
اپنے ہونے کا نہ احساس دلانے لگ جائیں

تو محبّت کی غرض لمحہ موجود سے رکھ
ترے ذمّے نہ مرے درد پرانے لگ جائیں

یہ محبّت نہ کہیں ردِ عمل بن جائے
ہم ترے بعد کوئی ظلم نہ ڈھانے لگ جائیں

کارِ دُنیا بھی عجب ہے کہ مرے گھر والے
دن نکلتے ہی میری خیر منانے لگ جائیں

پاس ہی ڈوب رہی ہے کوئی کشتی تابش
خود نہیں بچتے اگر اس کو بچانے لگ جائیں

عباس تابش

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی