تیرا صدقہ کمال سے نکلا

تیرا صدقہ کمال سے نکلا
چاند تیرے جمال سے نکلا

زہن مفلوج ہوگیا میرا
جب وہ میرے خیال سے نکلا

دشت میں عشق تیرا کام آیا
ایک چشمہ دھمال سے نکلا

تیری صورت کو دیکھ کر محکم
وحشتوں کے وبال سے نکلا

زین محکم

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

تقوی کی اعلی مثال