تیغِ شکستہ، تیرِ خمیدہ سے جنگ میں

تیغِ شکستہ، تیرِ خمیدہ سے جنگ میں
لڑتا ہے کون دستِ بریدہ سے جنگ میں

کرنا پڑے گا مجھ کو عدو سے مکالمہ
وہ بڑھ رہا ہے خطِ کشیدہ سے جنگ میں

مجھ کو ملا ہے مالِ غنیمت سے اک قلم
میں نے بھری تھی آگ قصیدہ سے جنگ میں

اک مردِ باراں دیدہ ہمیں روکتا رہا
اس خونِ گرم و برقِ تپیدہ سے جنگ میں

آؤ نہ بار بار یوں میرے خیال میں
روکو نہ اس طرح نمِ دیدہ سے جنگ میں

دربار میں کہا تھا ستارہ شناس نے
ہارے گا وہ غلامِ خریدہ سے جنگ میں

منصورؒ ہو، حسینؓ ہو یا ہو کلیمؔ تم
ہوتے ہیں سر بلند چنیدہ سے، جنگ میں

کلیم احسان بٹ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا