تصویر کے پنجرے میں پرندہ نہیں دیکھا

تصویر کے پنجرے میں پرندہ نہیں دیکھا
کچھ بھی تو نے رنگوں کے علاوہ نہیں دیکھا

کیا سچ میں کوئی سبز ستارہ نہیں دیکھا
یعنی کہ ابھی کچھ بھی بدلتا نہیں دیکھا

امداد طلب نظروں سے تکتا تھا وہ سورج
کرنوں کو مرے پاؤں میں پڑتا نہیں دیکھا

گمنام جزیروں کی طرف بڑھتے رہے یار
اور آنکھ سمندر کا جزیرہ نہیں دیکھا

میں رنگوں کو رنگتا ہوں تو حیرانی سی کیوں ہے
بے رنگ سا کیا رنگ کا چہرہ نہیں دیکھا

صحراؤں کی وسعت سے اماں مانگ رہا تھا
دریا کا کبھی رنگ یوں اڑتا نہیں دیکھا

کلیم باسط

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا