تصورات کو تجسیمِ صوت و نور کیا

تصورات کو تجسیمِ صوت و نور کیا

ترے خیال نے جب خواب میں ظہور کیا

کل اس کی یاد نے سینے پہ دستکیں دے کر

ملالِ جاں بڑی آہستگی سے دور کیا

٭٭

قرار مل نہ سکا آج اس کی یاد سے بھی

پلٹ رہا ہوں میں اس شہرِ بے مراد سے بھی

بجھے حروف میں لکھی ہیں روشنی کی سطور

کتابِ عمر عبارت ہے اس تضاد سے بھی

سعود عثمانی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی