ٹپہ بازی سے چرخ گرداں کی

ٹپہ بازی سے چرخ گرداں کی
سر ہمارے ہیں گوے میداں کی

جی گیا اس کے تیر کے ہمراہ
تھی تواضع ضرور مہماں کی

ہیں لیے آبروے خنجر و تیغ
ترچھی پلکیں تری بھویں بانکی

پھوڑ ڈالیں گے سر ہی اس در پر
منت اٹھتی نہیں ہے درباں کی

سر دامن سے گفتگو کریے
بات بگڑی لب گریباں کی

اس بت شوخ کی ہے طینت میں
دشمنی میرے دین و ایماں کی

آدمی سے ملک کو کیا نسبت
شان ارفع ہے میر انساں کی

میر تقی میر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا