تنہا ہی چلنا ہے زندگی تجھے زندگی بھر

تنہا ہی چلنا ہے زندگی تجھے زندگی بھر
جب تو رخصت ہوگی
تجھے رونے والے بہت ہوں گے
ہو گے وہی جو تجھے پوچھتے تک نہ تھی زندگی بھر
تاحیاتی جس نے تیری مٹھی پر قدر نہ کی ہوگی
تیرے بعد وہ تیری تعریفوں کی مالا پرو رہے ہوں گے
گھبرانا مت ان اوازوں کو سن کر
دفنانے کے بعد پھر یہ ویسے ہی ہوں گے
بس زندگی بھر ایک بات کا دھیان رکھنا اے زندگی
انہیں خوش رکھنے کی بجائے خدا کو منا لینا
ضرورت ہوگی صرف اس دنیا میں ہی
قیامت کے دن یہ تجھ پر ہنسنے والے
اپنے کیے پر ضرور افسردہ ہوں گے

ازقلم
صنم فاروق

Related posts

امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی