تن سلگتا ہے من سلگتا ہے

تن سلگتا ہے من سلگتا ہے

جب بہاروں میں من سلگتا ہے

نوجوانی عجیب نشہ ہے

چھاؤں میں بھی بدن سلگتا ہے

جب وہ محو خرام ہوتے ہیں

انگ سرو سمن سلگتا ہے

جانے کیوں چاندنی میں پچھلے رات

چپکے چپکے چمن سلگتا ہے

تیرے سوزِ سخن سے اے ساغر

زندگی کا چلن سلگتا ہے

ساغر صدیقی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا