طمانچہ

طمانچہ

مت تہذیب تمدّن کی تم، ہم سے بات کرو
دل کا درد چھلک جائے گا ورنہ آنکھوں سے
غیرت کے اس نام پہ اب تک جتنے خون ہوئے
ان میں کل اک چار سال کی بچی بھی دیکھی
جس نے ہاتھ میں کپڑے کی اک گُڑیا تھامی تھی
مٹھی میں اک ٹافی تھی جو اس نے کھانی تھی
اُس کی پلکوں پر حیرت تھی،
حیرت میں تھا خوف
گردن پر خنجر کا گھاؤ اتنا گہرا تھا
جیسے اُس کو کاٹنے والا ہاتھ پرایا ہو
گھر کے غیرت مند مردوں سے، پوچھ سکی نہ وہ
بابا، بھّیا، بولو غیرت کس کو کہتے ہیں!!!
مت تہذیب، تمّدن کی تم ہم سے بات کرو

فاخرہ بتول

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا