تمنائے وصل

سرد ہوا کے جھونکے دل میں لینے آئیں جب انگڑائی
ابر کی شوخی جب آ جائے ارمانوں میں

لہرا کر جب پیڑ چمن میں
چاہت کی اک سرگم چھیڑیں

جب ساگر کی رقصاں بانہیں
مستی کے افسانے چھیڑیں

ایک انوکھی پیاس کا جب احساس دلائیں
جب سرگوشی کرنے آئے

چاند انوکھے ابر میں جاناں
پھولوں کی خوشبو جب اترے

تیرے میرے جسم کے اندر
تیری سانسیں میری سانس میں ڈھل جائیں

معظمہ نقوی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی